وضوکرنے والے کے ہاتھ پر اگر مسح کے لیے رطوبت اور تری نہ بچی ہو اس طرح کہ کہنی سے انگلیوں کے سرے تک دونوں ہاتھ خشک ہو جائیں تو ہاتھ کو دوسرے پانی سے تر نہیں کر سکتے بلکہ اپنی داڑھی سے رطوبت لے کر اس سے مسح کرے اور داڑھی کے علاوہ چہرے کے دوسرے حصے سے رطوبت لینا جیسے ابرو یا رخسار سے لے تو (حتی کہ ان لوگوں کے لیے بھی جن کی داڑھی نہ ہو) احتیاط واجب کی بنا پر کافی نہیں ہے۔ اسی طرح اگر داڑھی معمول سے زیادہ لمبی ہو تو بڑھی ہوئی مقدار سے تری لینے میں اشکال ہے۔
اگر ہاتھ پر صرف اتنی تری ہو کہ صرف سر کا مسح کر سکتے ہوں تو احتیاطِ واجب یہ ہے کہ سر کا مسح اسی تری سے کریں اور اس کے بعد پاؤں کے مسح کے لیے اپنی داڑھی سے رطوبت لیں۔