لولا الحجّة لساخت الأرض بأهلها:اگر حجّت نہ ہوتی تو زمین اپنے اہل کے ساتھ دھنس جاتی) ؟ کا کیا معنی ہے ؟ اور ایسا کیوں ہے ؟ برائے مہربانی قرآنی اور عقلی دلائل سے جواب دیجئے !
"ساخ"کا معنی ہے غاض (پانی میں غوطہ لگانا) اور ساخت الارض : یعنی : زمین کا دھنس جانا، اور ساخ فی الأرض:یعنی اس کا اپنے میں داخل ہو جانا، تو “ساخت الارض باھلھا” یعنی : اہل زمین کا زمین میں دھنس جانا، اور آپ کے اس قول لولا الحجّۃ لساخت الأرض باھلھا،سے مراد : اگر زمین میں زندہ امام معصوم کا وجود نہ ہو تو زمین اپنے اہل کے ساتھ دھنس جائے۔
اور اسی معنی کی طرف وہ بات بھی رہنمائی کر رہی ہے جو امام باقر سے منسوب حدیث میں وارد ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا : اگر امام کو ایک لمحہ کے لئے بھی زمین سے اٹھا لیا جائے تو زمین اپنے رہنے والوں کو مضطرب کر دے جیسے سمندر اپنے اندر کی حیات کو مضطرب اور خطرہ میں ڈال دیتا ہے۔” (الكافی 1: 179 الحديث (12) كتاب الحجّة، باب أنّ الأرض لا تخلو من حجّة.) اور امام کے قول میں لفظ : “لساخت۔۔۔: یہ لوگوں کے ہلاک اور فنا ہو جانے کو بطور کنایہ بیان کیا گیا ہے۔
آپ سے مروی ہے، آپ نے فرمایا : اگر زمین ایک دن بھی بغیر امام کے ہو جائے تو زمین اپنے باشندوں کے ساتھ دھنس جائے، اور اللہ ان کو اپنے شدید ترین عذاب میں مبتلا کر دے۔۔۔۔ یقینا اللہ تبارک و تعالیٰ نےہمیں اپنی زمین میں حجّت اور اہل زمین کے لئے زمین میں امام قرار دیا ہے، اور جب تک امام لوگوں کے درمیان موجود ہے تب تک ہرگز کبھی بھی زمین اپنے باشندوں کے ساتھ نہیں دھنسے گی ، تو جب اللہ اہل زمین کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرے گا تو پھر نہ تو وہ لوگوں کو مہلت دے گا اور نہ ان کی طرف نگاہ فرمائےگا، اور ہم کو ان کے درمیان سے ہٹا دے گا اور ہم ان کی طرف بلند ہو جائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ جو چاہے گا اور پسند کرے گا وہ انجام دےگا۔ (إكمال الدين وإتمام النعمة: 204 الحديث (14) الباب الحادي والعشرون.)
اور امیر المؤمنین سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : زمین ایسے قائم سے خالی نہیں ہوتی جو اللہ کی حجّت ہو، یا تو وہ ظاہر و مشہور ہوگا یا حامل خوف او رپوشیدہ ہوگا۔ (نهج البلاغة لمحمّد عبده 4: 37 (147) ومن كلام له لكميل بن زياد.)
اور قرآن کریم سے دلیل :
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم وَأَنتَ فِيهِم:اور اللہ ان کو عذاب کرنے والا نہیں ہے جبکہ آپ ان میں موجود ہو ۔الانفال : ۳۳
جابر بن یزید جعفی سے مروی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر محمد بن علی الباقر سے عرض کی : کونسی چیز ہے جو نبی ﷺ اور امام کی طرف محتاج ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : بھلائی اور نیکی کی اساس پر عالم کی بقا، اور یہ اس لئے کہ اللہ عزّ و جلّ نے جب تک زمین میں کوئی نبی یا امام ہو زمین والوں سے عذاب کو اٹھا رکھا ہے، اللہ عزّ و جلّ فرماتا ہے : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُم وَأَنتَ فِيهِم :اور اللہ ان کو عذاب کرنے والا نہیں ہے جبکہ تم ان میں موجود ہو۔
اور نبیﷺنے فرمایا : ستارے اہل آسمان کے لئے امان ہے اور میرے اہل بیت اہل زمین کے لئے امان ہے، تو جب ستارے غائب ہو جائیں گے تو اہل آسمان کے پاس ان کی ناپسندیدہ چیزیں آئیں گی اور جب میرے اہل بیت نہ رہیں گے تو اہل زمین کے پاس وہ سب کچھ آئے گا جس کو وہ ناپسند کرتے ہو گے۔۔علل الشرائع 1: 123 العلّة التي من أجلها يحتاج إلى النبيّ والإمام ۔
عقلی دلیل :
یہ بات ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو کسی مقصد سے خلق فرمایا ہے چونکہ پروردگار عالم صاحب حکمت ہے، ورنہ یہ خلقت بیکار قرار پاتی اور پروردگار اس بات سے منزّہ ہے کہ وہ بیکار کام انجام دے، تو یقینا اللہ سبحانہ نے انسان کو تدریجی مراحل میں خلق فرمایا ہے، چونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں کمال تک پہنچنے کی صلاحیت رکھی ہے، اور اس مقصد کی خاطر پروردگار عالم نے عقل عطا فرمائی ہے، مگر عقل تنہا مستقل طور پر ہمیشہ حقیقت کی معرفت کرانے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اس بنا پر ضروری ہے کہ عقل ممکنہ منزلت و کمال کے درجہ تک پہنچنے کی راہ کے تعیّن کے لئے ایسے الٰہی راستوں سے رہنمائی طلب کرے جن کو وسیلہ بنائے بغیر مقام کمال تک پہنچنا ممکن نہیں ہے ، اور یہ ذریعہ ا ور واسطہ رسول یا امام ہیں ۔
اس بنا پر لازم ہے کہ زمین ایک دن کے لئے بھی کمال تک پہنچانے والے یا انسان کامل سے خالی نہ ہو، تاکہ انسان اپنے مقصد خلقت تک پہنچنے کے راستہ سے گمراہ نہ ہو جائے، اگر اپنی راہ سے ہٹ گیا تو زمین پر فساد پیدا ہو جائےگا، بحران عام ہو جائےگا، تنازعات اور لڑائی پھوٹ پڑے گی، اور اس کی وجہ سے ایسی آفات وجود میں آئیں گے جس میں تمام مخلوقات ہلاک ہو جائےگی اور یہ امام کے اس قول کا مصداق ہو جائےگا:"لساخت۔۔۔"، اور ایسی صورت میں تو مقصد فوت ہو جائے گا اور تخلیق بیکار قرار پائے گی، اور پہلے بیان ہو چکا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰٰ صاحب حکمت ہے جو بیکار کام نہیں کرتا۔
اور جہاں تک فلسفی پہلو سے دیکھا جائے تو :
بعض فلسفیوں نے اس بات پر متعدد برہان پیش کئے ہیں کہ اللہ اور مخلوق کے درمیان واسطہ کے لئے ایک موجود کامل کا ہونا ضروری ہے جو فیض الٰہی کو خلق تک پہنچانے کا ذریعہ بنے، اور انہوں نے اس کو "واسطۃالفیض" (فیض پہنچانےکا ذریعہ) نام دیا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا جو کچھ بھی ہے اس کا محتاج ہونا طے شدہ ہے، اور اس کا وجود، وجودِ غیر مستقل ہے جو غنی مطلق سے مسلسل حصول فیض کا محتاج ہے، اور فیض کا پہنچنا اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک کہ کوئی فیض پہنچانے والا نہ ہو، ہم اس کو"رابط" (ربط قائم کرنے والا) سے تعبیر کرتے ہیں، چنانچہ یہ موجود کامل ہی رابط ہوتا ہے، یا رتبہ کے لحاظ سےرابطِ اعلیٰ ہوتا ہے ۔
مگر ان معانی کو ہم سچّا قرار نہیں دے سکتے جب تک ہم ان آئمہ ھدٰی سے مروی روایات تک نہ پہنچ جائیں جو ان معانی کی تشریح کرتی ہو؛ لہذٰا اس بات کو ملحوظ خاطر رکھے !
مرکز الأبحاث العقائدیۃ
حوالہ : https://www.aqaed.com/faq/2649'