logo-img
رازداری اور پالیسی
2 سال قبل

صحیح السند روایات

سید الشہدا امام حسین کے لیے گریہ، سینہ زنی اور اسی طرح کے دیگر امور کے بارے میں شیعہ فقہاء اور دانشوروں کا کیا نظریہ ہے ؟ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ایسا وسیع اور سیر حاصل جواب دیں جس کو ذہن آسانی سے قبول کر سکیں، تا کہ ہم یہ تفصیلات اپنے ان غیر شیعہ برادران کو بیان کر سکیں جو ہمیشہ ہم سے اس کے متعلق سوالات کرتے رہتے ہیں۔


یقیناً مسلمان علما نے اپنی حدیث کی کتابوں میں یہ روایت بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسین پر آپ کی شہادت سے قبل گریہ فرمایا تھا، او اس کی وجہ یہ تھی کہ جبرئیل نے امام حسین پر مستقبل میں جاری ہونے والے مصائب کی آپ کو خبر دی تھی، اور یہ گریہ کا عمل نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے متعدد بار انجام فرمایا تھا، اور اسی طرح جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امام حسین پر جاری ہونے والے مصائب کی خبر دی تب امیر المؤمنین اور صحابہ نے بھی گریہ کیا تھا۔ مزید بر آں اہل بیت سے وارد صحیح السند روایات میں واضح طور سے امام حسین کی عزاداری کے قیام کی طرف راغب کیا گیاہے۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں غم و اندوہ کے اظہار کا ہر قوم کے پاس اپنا مخصوص انداز ہوتا ہے، اور شیعوں کے ہاں غم و اندوہ کے اظہار کے مختلف طریقوں میں سے ایک رخسار پر طمانچے مارنا (اور سینہ کو پیٹنا) ہے، شیعوں کے نزدیک غم و اندوہ کے اظہار کے طریقوں میں سے یہ ایک طریقہ و انداز ہے جو عزاداری کے قیام کے مستحب ہونے کے عمومی عنوان کے ذیل میں داخل ہے۔ مزید بر آں یہ کہ یقیناً بنی ہاشم کی محترم خواتین نے امام حسین کے غم میں اپنے رخساروں پر طمانچے مارے تھے اور وہ روایت جو امام صادق سے مروی ہے کہ : "یقینا بندے کے لیے ہر مصیبت میں گریہ اور بےقراری کا اظہار ناپسندیدہ ہے سوائے وہ گریہ اور آہ و فغاں کے جو حسین بن علی پر کیا جائے چونکہ اس میں تو ثواب ہے۔ (كامل الزیارات: 202 الباب (32) حدیث (286)۔) یہ حدیث اس بات پر بہترین دلیل ہے۔ مرکز الابحاث العقائدیۃ حوالہ : http://www.aqaed.com/faq/701/

4