logo-img
رازداری اور پالیسی
2 سال قبل

خدا کی جسمانیت کانظریہ

میرے دوستوں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ ابن تیمیہ اور محمّد بن عبد الوهاب دونوں تجسیم (خدا کے جسم رکھنے)کے قائل نہیں تھے اور جو ان کے بارے میں یہ بات کہتا ہے وہ تعصب کے سبب سےہے، اور تہمت کا جواب تہمت کے ذریعے دیتا ہے، ورنہ وہ کونسی کتابیں اور مصادر ہیں جن کے بارے میں یہ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ اس میں ان دونوں نے خدا کی جسمانیت کا نظریہ واضح طور سے بغیر اس امکان کے کہ اس میں کوئی اور پہلو ہو، بیان کیا ہے ؟! میں گزارش کرتا ہوں کہ ان دونوں کے اقوال کو حوالوں کے ساتھ بیان کریں تاکہ حجّت تمام ہو سکے؟


حنبلی فرقے کے کثیر لوگوں کے متعلق مشہور ہے کہ یہ لوگ تجسیم( خدا کی جسمانیت) کے قائل ہیں، اس معنی میں کہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے، چہرا ہے، آنکھ ہے، پنڈلی ہے، اور وہ عرش پر اسی طرح چار زانوں ہو کر بیٹھا ہے جس طرح سے بادشاہ اور سلاطین بیٹھتے ہیں، اور یہ لوگ اس بات پر قرآن کریم سے آیات کو پیش کرتے ہیں جیسے اللہ تعالی کا فرمان ﴿یدُ اللَّهِ فَوقَ أَیدِیهِم :اور ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ ہی کا ہاتھ ہے۔سورہ فتح : ۱۰﴾ اور ﴿كُلُّ شَیءٍ هَالِكٌ إِلاَّ وَجهَہُ:اس کی چہرے (ذات) کے ماسوا ہر شے ہلاک ہونے والی ہے۔سورہ قصص : ۸۸﴾اور ﴿یومَ یكشَفُ عَن سَاقٍ :جس دن پنڈلی کھول دی جائےگی۔سورہ قلم : ۴۲ ﴾اور ﴿الرَّحمَنُ عَلَى العَرشِ استَوَی :وہ رحمان عرش پر اختیار و اقتدار رکھنے والا ہے۔سورہ طہ : ۵﴾اور اس کے علاوہ دیگر آیات۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں : ہاتھ، چہرا، پنڈلی اور بیٹھنے کا تذکرہ قرآن میں اپنے حقیقی معانی میں آیا ہے اور ان الفاظ سے مجازی معانی مراد نہیں ہے۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں : ہاں اللہ کا ہاتھ ہمارے ہاتھ کی طرح سے نہیں ہے، اور نہ ہی اس کا چہرا ہمارے چہرے کی طرح سے ہے، اور نہ ہی اس کی پنڈلی ہمارے پنڈلی کی طرح سے ہےکیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے﴿لَیسَ كَمِثلِهِ شَیءٌ:اس کا جیسا کوئی نہیں ہے ۔سورہ شوری : ۱۱﴾ اور آپ پر یہ بات مخفی نہ رہے کہ ابن تیمیہ اور محمّد بن عبد الوهاب دونوں کا یہ دعوی تھا کہ وہ حنبلی فرقے سے تعلق رکھتےہیں!،خدا کی جسمانیت کے سلسلہ میں ابن تیمیہ کے اقوال انتہائی کثرت سے پائے جاتے ہیں، اور اس پر مطلع ہونے کے لیے آپ رجوع کریں، بطور مثال کے اس کی کتاب "الفتوى الحمویۃ الكبرى" اور "مجموعۃ الفتاوى: 5 كتاب الاسمآء والصفات" کی طرف۔ اس کا "تجسیم" کا عقیدہ ہی وہ واحد اہم مرکزی تنازع تھا جو اس کے اور اس کے ہم عصر علما کے درمیان چلتا رہا تھا؛ اور یہی واحد سبب تھا جس کی وجہ سے اس کے اور مالکیوں کے درمیان دمشق میں فتنہ پیدا ہوا تھا، اور یہی تنہا سبب تھا جس کی وجہ سے اس کو مصر بلایا گیا تھا اور پھر وہاں پر اس کو قید خانہ میں ڈال دیا گیا تھا، جیسا کہ ان متعدد نشستوں کا یہی سبب تھا جو یہاں اور وہاں اس کے اقوال پر بحث کے لیے منعقد کی گئی تھی۔ اور اس کو ردّ کرنے میں مالکی تنہار نہیں تھے، بلکہ یہی کیفیت حنفی اور شافعیوں کی بھی تھی، البتہ حنبلی ان تمام لوگوں سے علیحدہ ہو کر اس انحرافی عقیدے کے واضح طور پر قائل ہوئیں۔ شیخ كوثری حنفی ان افراد کے عقیدے کو بیان کرتے ہوئے کہ جو حرکت، انتقال، جہت وغیرہ کو ثابت کرتے ہیں کہا : خداکی جسمانیت کے عقیدے کا تعلق قرآن اور سنت سے نہ ہونا بالکل واضح ہے، اور اسی طرح سے خدا تعالیٰ کے لیے حدود، بیٹھنے اور مس کرنے کی باتوں کو ثابت کرنے جیسی چیزوں سےاللہ بلند و برترہے۔ ( كتاب الاسماء والصفات للبیهقی بتعلیقۃ الكوثری: 414 الهامش، باب: ما جاء من قول الله عزّ وجلّ؟هَل ینظُرُونَ إِلاَّ أَن یأتِیهُمُ اللَّهُ فِی ظُلَلٍ مِنَ الغَمَامِ ... مزید پڑھ" البقرة (2): 21.) اس عقیدے کے خلاف شافعیوں کا بڑا نمایاں کردار ہے، یقیناً ان لوگوں نے ابن تیمیہ کی غلطی و خطا کو بیان کرنے کے سلسلہ میں کثرت سے کتابیں لکھی اور شاید ان کتابوں میں سب سے اہم ترین کتاب جو شمار کی جاتی ہے وہ ہے جس کو ان کے شیخ شهاب الدین ابن جَهبَل نے لکھی تھی جس کی وفات سن ۷۳۳ ہجری میں ہوئی تھی۔ (طبقات الشافعیة الكبرى 9: 34 (1302) احمد بن یحیٰ، شهاب الدین بن جهبل.) اس کتاب کو دو سبب سے اہمیت حاصل ہے: اول: یہ شیخ ابن تیمیہ کے ہم عصر تھے، اور انہوں نے ابن تیمیہ کے رد میں یہ کتاب ابن تیمیہ کی زندگی میں ہی اس کو مخاطب کرکے لکھی تھی۔ دوم: اس نے اس کتاب کے اختتام پر واضح چیلنج دیا تھا، اس نے اس میں کہا تھا: "ہم انتظار میں ہے کہ وہ اپنی فریب کاری اور فساد میں سے کیا پیش کرتا ہے، تاکہ ہم اس کے انحرف اور اس کے عناد کے درجات کو واضح طور سے بیان کریں اور اللہ کی راہ میں اس سے کماحقہ جہاد کریں۔(طبقات الشافعیة الكبرى 9: 91 (1302) احمد بن یحیٰ، شهاب الدین بن جهبل) پھر ابن تیمیہ نے اس کا کوئی جواب بیان نہیں کیا باوجود اس کے کہ اس نے اس کو شیخ ابن تیمیہ کے سن ۶۹۸ ہجری میں منبر سے بیان کردہ جھوٹ "الحمویۃ الكبرى" کے ردّ میں تالیف کیا تھا۔ جہاں تک ابن تیمیہ کے خدا کی جسمانیت کے عقیدے کے دفاع کرنے کا تعلق ہے تو وہ صراحت کے ساتھ تجسیم کا دفاع کرنا ہے! ابن تیمیہ نے ان لوگوں کو ردّ کرتے ہوئے جو اللہ تعالی کو اعضاء اور اجزاء سے پاک و پاکیزہ قرار دیتے ہیں کہا ہے : "ان لوگوں نے پروردگار کو نقائص سے پاک قرار دینے میں سب سے اہم چیز اس کے جسمانیت کی نفی کو قرار دیا ہے مگر جو اس راستہ پر چلا اس کو اللہ نے بالکل ہی کسی لحاظ سے نقائص سے پاک نہیں کیا"۔ (مجموعۃالفتاوى 13: 413 مقدّمۃ التفسیر، "فصل فی اهل البدع مختلفون فی الكتاب ومخالفون فیہ، عمدة النفاة فی تنزیہ الربّ عن النقائص"، اور دیکھیں: منهاج السُنّۃ 2: 563 "كلام ابن المطهّر فی انّ مذهب الامامیۃ واجب الاتّباع، الردّ على قول: سمّوا مشبّہۃ؛ لانّهم یقولون: انّہ جسم") پھر تہمت زدہ شخص پر کسی چیز کو ثابت کرنے کا طریقہ فقط اس کے اقرار کرنے یا اس کی کتابوں میں موجود ہونے پر ہی مکمل نہیں ہوتا ہے؛ چونکہ کبھی تہمت کی زدمیں آنے والا شخص اس بات کو مسلمانوں سے خوف کے سبب واضح طور پر بیان نہیں کرتا ہے، بلکہ تہمت زدہ شخص کی تہمت کی حقیقت کو جاننے کا ایک اور طریقہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ: گواہ اس کے خلاف گواہی دے؛ اور ثابت کرنے کا یہ طریقہ تمام دلائل میں سے سب سے مضبوط دلیل ہے خاص طور سے جب گواہ بہت بڑی تعداد میں موجود ہو۔ اور یقیناً ابن تیمیہ کے خلاف کثیر لوگوں نے گواہی دی ہے: ان میں سے ابن بطوطۃ نے اپنی كتاب "رحلۃ ابن بطوطۃ"؛ میں جہاں پر اس نے عنوان "حكایۃ الفقیہ ذی اللّوثۃ" (پاگل فقیہ کی کہانی)۔اللّوثۃ کو پیش کے ساتھ پڑھا جائے گا جس کا معنی ہے جنون میں مبتلا ۔کے تحت بیان کیا ہے: "دمشق میں حنبلی فرقے کے بڑے فقہاء میں سے تقی الدین بن تیمیہ تھا جو شام کا بڑا عالم تھا اور مختلف فنون میں کلام کرتا تھا، مگر یہ کہ اس کی عقل میں کوئی مسئلہ تھا! اور اہل دمشق اس کی بڑی شدّت سے تعظیم کرتے تھے اور وہ منبر پرلوگوں کو وعظ کرتا تھا اور ایک دفعہ اس نے ایک موضوع پر گفتگو کی جس کی فقہاء نے مخالفت کی۔۔۔ پھر وہ آگے مزید کہتا ہے: جن دنوں میں دمشق میں تھا تو جمعہ کے دن اس کے پاس گیا جبکہ وہ جامع مسجد کے منبر پر لوگوں کو وعظ و نصیحت کر رہا تھا، تو اس نے اپنی گفتگو میں یہ بات بھی کہی: یقیناً اللہ دنیا کے آسمان کی طرف اترتا ہے جیسے میں نیچے اترتا ہوں اور وہ منبر کا ایک زینہ نیچے اتر گیا! تو ابن زہرا نام کے ایک مالکی فقیہ نے اس کی مخالفت کی اور اس کی کہی بات کا انکار کیا،لوگ اس فقیہ کی طرف لپکے اور اس کی ہاتھوں اور جوتوں سے شدید مارپٹائی کی یہاں تک کہ اس کا عمامہ گر گیا اور اس کے سر کی ریشمی ٹوپی ظاہر ہو گئی، اور اس بات کو قبول نہیں کیا وہ اپنے عمامہ کو پہنے اور اس کو اٹھا کر حنبلیوں کے قاضی عزّ الدین بن مسلم کے گھر لے گئے، اس نے اس کو قیدخانہ میں ڈالنے کا حکم دیا اور اس کے بعد اس نے اس کو سزا دی۔ (ادب الرحلات (رحلۃ ابن بطوطۃ): 90 قضاة دمشق) ابن تیمیہ کے اس قول کا تذکرہ ابن حجر العسقلانی نے بھی "الدرر الكامنۃ" میں کیا ہے (الدرر الكامنۃ فی اعیان المائۃالثامنۃ 1: 93 (409) احمد بن عبد الحلیم بن تیمیہ) اور ابن شاكر نے "عیون التواریخ" میں اس کو حصنی دمشقی کی "دفع شبہ من تشبّہ وتمرّد" سے نقل کیا ہے۔ (دفع شبہ من شبّہ وتمرّد "دفع الشبہ عن الرسول: 88"، تاریخ ابن تیمیہ جیسا کہ اس کو مؤرخ ابن شاكر نے نقل کیا ہے) اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کے عقیدے کی یہ صورت تھی۔۔وہ اللہ تعالیٰ کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا، تبدیل ہونا اور اوپر سے نیچے اترنے کو ممکن قرار دیتا تھا، اور تجسیم کے اس تصور میں جو محذورات ہیں وہ مخفی نہیں ہیں، چونکہ جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا ہو، اترتا ہو، چڑھتا ہو، تو لازمی بات ہے کہ پہلے وہ کسی جگہ پر ہوگا پھر وہ دوسری جگہ منتقل ہوگا، اور جب دوسری جگہ منتقل ہوگا تو پہلی جگہ اس سے خالی ہو جائے گی، اور دوسری جگہ اس کو اپنے احاطہ میں لے لے گی، اور جس کو جگہ اپنے احاطہ میں لے لے وہ محدود کے سواء کچھ نہیں ہوتا! جن چیزوں سے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کو متصف کرتے ہیں خداوندعالم ان سے بلند و بالا ہے ۔ مرکز الابحاث العقائدیۃ حوالہ : http://www.aqaed.com/faq/2165/

3