logo-img
رازداری اور پالیسی
2 سال قبل

ارادہ و مشیت الٰہی حادث ہے

پروردگار عالم کا ارادہ اور مشیت حادث ہے یا قدیم ہے ؟


ارادے کے متعلق قرآنی تعبیر کئی مقامات پر "اذا" (جب، اگر) کے ساتھ استعمال ہوئی ہے جو وقت اور زمان کی طرف اشارہ کرتا ہے، ارشادپروردگارہے: "إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَیءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَنْ نَقُولَ لَهُ كُنْ فَیكُونُ"۔ ہم جس چیز کا ارادہ کر لیتے ہیں اس سے فقط اتنا کہتے ہیں کہ ہو جا اور پھر وہ ہو جاتی ہے۔ سورہ نحل : ۴۰ اورکبھی اس کو "اَن "شرطیہ کے ساتھ بھی تعبیر کیا ہے، اس کی مثال: "وَلَا تَقُولَنَّ لِشَیءٍ إِنِّی فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا؛ إِلَّا أَنْ یشَاءَ اللَّهُ"۔ اور کسی شے کے لیے یہ نہ کہیں کہ میں یہ کام کل کرنے والا ہوں، مگر جب تک خدا چاہے۔ سورہ کہف : ۲۳ – ۲۴ اور قرآن کی تعبیر بعض ممکنہ واقعات اور ارادہ الہیہ کے درمیان موجود تعلق کو بیان کر رہی ہے، اس طرح سے کہ اگر پروردگار ان واقعات کا ارادہ کرتا تو وہ واقع ہوتے، اور یہ چیز اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ ارادہ حادث ہے، پس اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا اقْتَتَلُوا وَلَٰكِنَّ اللَّهَ یفْعَلُ مَا یرِیدُ"۔ اور اگر خدا طے کر لیتا تو یہ جھگڑا نہ کر سکتے لیکن خدا جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے۔سورہ بقرہ : ۲۵۳ "وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَٰكِنْ لِیبْلُوَكُمْ فِی مَا آتَاكُمْ"۔ اور خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ اپنے دیے ہوئے قانون سے تمہاری آزمائش کرنا چاہتا ہے۔سورہ مائدہ : ۴۸ " أَلَمْ تَرَ إِلَىٰ رَبِّكَ كَیفَ مَدَّ الظِّلَّ وَلَوْ شَاءَ لَجَعَلَهُ سَاكِنًا ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیهِ دَلِیلً"۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے پروردگار نے کس طرح سایہ کو پھیلا دیا ہے اور وہ چاہتا تو ایک ہی جگہ ساکن بنا دیتا پھر ہم نے آفتاب کو اس کی دلیل بنا دیا ہے۔سورہ فرقان : ۴۵ اور حدیث مبارکہ بیان کرتی ہے : امام صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے: مشیت حادث و عدم سے وجود میں آنے والی شے ہے۔ "اورامام صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے: اللہ نے اشیا سے پہلے مشیت کو خلق فرمایا، پھر اشیا کو مشیت کے ساتھ خلق فرمایا"۔ بکیر بن اعین سے روایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے ا مام صادق (علیہ السلام) سے عرض کی کہ اللہ کا علم اور اللہ کی مشیت یہ دونوں مختلف چیزیں ہیں یا ایک ہی ہیں؟ تو آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا: علم مشیت نہیں ہے۔ (میزان المطالب، ص ۵۸ – ۵۹) مکتبۃ : مدرسۃ الفقاہۃ جواب ماخوذ از : https://lib.eshia.ir/71900/1/359

3